ابنا: ترک لیبر پارٹی کے ایک رہنما بلنت اسین اوغلو نے کہا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی کو مسائل سے دوچار کرنے پر وزیرخارجہ داؤد اوغلو کو استعفی دیدینا چاہیے۔ انہوں نے اردوغان حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ داؤد اوغلو کی پالیسیوں کی بنا پر ایران اور شام کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں روز بروز خرابی آتی جارہی ہے اور وہ چونکہ ایران اور شام کو ترکی مخالف سمجھتےہیں لھذا انہیں ترکی کے وزیر خارجہ کے عھدے پر باقی نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ داؤد اوغلو کی سربراہی میں ترکی کی خارجہ پالیسی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ادھر ایک اور ترک سیاسی پارٹی نے کہا ہے کہ شام میں ترکی کی مداخلت ملک کے لئےبڑی مہنگي پڑی ہے۔ صدائےعوام نامی پارٹی کے رہنما نعمان کورتولموش نے استنبول یونیورسٹی میں کہا کہ اگر شام میں انقرہ کی مداخلت جاری رہی تو ہمسایہ ملکوں سےاچھے تعلقات برقرار کرنے کی ترک حکومت کی کوششیں خاک میں مل جائيں گي اور ترکی علاقے میں الگ تھلگ ہوکر رہ جائے گا۔ یاد رہے ترکی بھی بعض عرب ملکوں کے ہمراہ شام میں مداخلت کررہا ہے۔ یاد رہے شام میں امریکہ، اسکے مغربی اور بعض عرب اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد سرگرم عمل ہیں۔....... /169
4 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 306656
شام میں ترکی کی مداخلت کے خلاف ترک سیاسی پارٹیوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔